(PIA): قیام سے نجکاری تک ایک مکمل سفر
M.Mohsin
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) پاکستان کی قومی شناخت اور ہوا بازی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ پی آئی اے کا قیام 1955 میں اس وقت عمل میں آیا جب حکومتِ پاکستان نے اورینٹ ایئرویز کو قومی تحویل میں لے کر ایک جدید قومی ایئرلائن کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر فضائی سفر میں نمایاں مقام دلانا تھا۔
✨ سنہری دور
1960 اور 1970 کی دہائی پی آئی اے کا سنہری دور کہلاتی ہے۔ پی آئی اے ایشیا کی پہلی ایئرلائن تھی جس نے بوئنگ 707 متعارف کروایا۔ لندن، نیویارک، ٹوکیو اور پیرس جیسے بڑے شہروں تک براہِ راست پروازیں چلائی گئیں۔ اس دور میں پی آئی اے نہ صرف منافع میں تھی بلکہ دیگر ممالک کی ایئرلائنز کے لیے ایک رول ماڈل بھی سمجھی جاتی تھی۔
⚠️ زوال کی شروعات
1980 کے بعد پی آئی اے میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، غیر پیشہ ورانہ تقرریاں اور ناقص فیصلے سامنے آنے لگے۔ ملازمین کی تعداد ضرورت سے کئی گنا بڑھ گئی جبکہ سروس کا معیار مسلسل گرتا چلا گیا۔ جہازوں کی بروقت دیکھ بھال نہ ہونا اور تاخیر معمول بن گئی۔
💰 مالی بحران
وقت کے ساتھ پی آئی اے اربوں روپے کے خسارے میں چلی گئی۔ قرضوں کا بوجھ، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، پرانے طیارے اور ناقص انتظامیہ نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ حکومت کی جانب سے بار بار مالی بیل آؤٹ کے باوجود ادارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکا۔
🔐 نجکاری کی جانب سفر
حالیہ برسوں میں حکومتِ پاکستان نے پی آئی اے کی نجکاری کو ناگزیر قرار دیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق نجکاری سے ادارے میں پیشہ ورانہ نظم و نسق آئے گا، خسارے کم ہوں گے اور عالمی معیار کی سروس بحال کی جا سکے گی۔ تاہم، مزدور یونینز اور عوامی حلقوں کی جانب سے خدشات بھی سامنے آئے کہ نجکاری سے ملازمین کے حقوق اور قومی اثاثہ خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
🧭 نتیجہ
پی آئی اے کی کہانی صرف ایک ادارے کی نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کی عکاس ہے۔ اگر نجکاری شفاف، منصفانہ اور قومی مفاد میں کی گئی تو یہ ادارہ دوبارہ بلندیوں کو چھو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ ایک اور تاریخی اثاثے کے ضیاع کی مثال بن سکتی ہے۔
Read More Eng https://pakipolitics.com/eng-39/

