IMF مذاکرات 2026: کیا مہنگائی کم ہوگی یا مزید بڑھے گی؟
2026 میں پاکستان کی معیشت ایک بار پھر عالمی مالیاتی دباؤ اور اصلاحاتی تقاضوں کے بیچ کھڑی ہے۔ حکومت اور International Monetary Fund (IMF) کے درمیان جاری مذاکرات نہ صرف بجٹ پالیسی بلکہ مہنگائی، روپے کی قدر اور عام آدمی کی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان مذاکرات کے نتیجے میں مہنگائی کم ہوگی یا مزید بڑھے گی؟
یہ بلاگ اسی اہم سوال کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے۔
پس منظر: پاکستان اور IMF کا تعلق
پاکستان کئی دہائیوں سے آئی ایم ایف پروگرامز کا حصہ بنتا رہا ہے۔ ہر پروگرام کے ساتھ کچھ سخت شرائط منسلک ہوتی ہیں:
سبسڈی میں کمی
ٹیکس نیٹ کا پھیلاؤ
بجلی و گیس کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ
روپے کی قدر کو مارکیٹ کے مطابق چھوڑنا
2026 کے مذاکرات بھی انہی بنیادی نکات کے گرد گھوم رہے ہیں، مگر موجودہ معاشی حالات ماضی سے زیادہ پیچیدہ ہیں۔
مہنگائی کی موجودہ صورتحال 2026
2024-25 میں افراطِ زر (Inflation) کی بلند شرح نے عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا۔ 2026 میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ مہنگائی میں کچھ کمی آئی ہے، مگر:
اشیائے خوردونوش اب بھی مہنگی ہیں
بجلی و گیس کے بل عوام پر بوجھ ہیں
پیٹرول کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے جڑی ہوئی ہیں
اگر آئی ایم ایف مزید اصلاحات پر زور دیتا ہے تو مختصر مدت میں قیمتوں میں اضافہ خارج از امکان نہیں۔
کیا IMF پروگرام مہنگائی کم کرتا ہے؟
یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔ آئیے دونوں پہلو دیکھتے ہیں:
🔹 مختصر مدت (Short Term Impact)
عام طور پر:
روپے کی قدر میں کمی
یوٹیلیٹی قیمتوں میں اضافہ
نئے ٹیکسز
ان اقدامات سے مہنگائی وقتی طور پر بڑھ سکتی ہے۔
🔹 طویل مدت (Long Term Impact)
اگر اصلاحات درست انداز میں نافذ ہوں تو:
زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوتے ہیں
کرنسی مستحکم ہوتی ہے
سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے
بجٹ خسارہ کم ہوتا ہے
اس صورت میں مہنگائی آہستہ آہستہ کم ہو سکتی ہے۔
2026 کے مذاکرات کے اہم نکات
معاشی ماہرین کے مطابق 2026 کے IMF مذاکرات میں ممکنہ نکات یہ ہو سکتے ہیں:
ٹیکس اصلاحات – نان فائلرز پر سختی
توانائی سیکٹر ریفارمز – سرکلر ڈیٹ میں کمی
سرکاری اخراجات میں کمی
اسٹیٹ بینک کی خودمختاری میں اضافہ
یہ تمام اقدامات معیشت کو طویل مدت میں بہتر بنا سکتے ہیں، مگر عوامی سطح پر فوری ریلیف کی ضمانت نہیں دیتے۔
کیا حکومت کے پاس کوئی متبادل ہے؟
پاکستان کے پاس محدود آپشنز ہیں:
دوست ممالک سے قرض
بانڈ مارکیٹ سے فنڈنگ
برآمدات میں اضافہ
ٹیکس بیس کو وسیع کرنا
لیکن جب تک مستقل اصلاحات نہیں ہوں گی، ہر چند سال بعد IMF پروگرام کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
عام آدمی پر اثرات
2026 میں عام شہری کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے:
کیا آٹا، چینی، دال سستی ہوگی؟
کیا بجلی کے بل کم ہوں گے؟
کیا روپے کی قدر مستحکم ہوگی؟
حقیقت یہ ہے کہ اگر حکومت سخت فیصلے کرتی ہے تو ابتدائی مہینوں میں دباؤ بڑھ سکتا ہے، مگر درست پالیسی کے ساتھ سال کے آخر تک بہتری کے آثار ممکن ہیں۔
ماہرین کی رائے
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے:
اگر سیاسی استحکام رہا تو IMF پروگرام مثبت نتائج دے سکتا ہے
اگر پالیسیوں میں تسلسل نہ رہا تو مہنگائی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے
اصل مسئلہ صرف قرض نہیں بلکہ گورننس اور اسٹرکچرل ریفارمز ہیں۔
نتیجہ: مہنگائی کم ہوگی یا بڑھے گی؟
🔹 مختصر جواب: ابتدا میں دباؤ، بعد میں ممکنہ استحکام۔
IMF مذاکرات 2026 فوری ریلیف نہیں دیں گے، بلکہ سخت فیصلوں کے ذریعے طویل مدتی استحکام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
اگر حکومت:
✔ ٹیکس نیٹ بڑھائے
✔ کرپشن کم کرے
✔ برآمدات بڑھائے
✔ سیاسی استحکام برقرار رکھے
تو مہنگائی میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ ورنہ عوام کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

