طبی تجربات — علاج تیز مگر احتیاط ضروری

آج کی جدید دنیا میں میڈیکل سائنس تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ایسی بیماریاں جن کا کبھی علاج ممکن نہیں تھا، آج جدید تحقیق اور طبی تجربات کے ذریعے قابلِ علاج بن رہی ہیں۔ نئی ویکسینز، ادویات، سرجری کے جدید طریقے اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی علاج، صحت کے میدان میں ایک انقلاب برپا کر رہے ہیں۔ لیکن جہاں یہ ترقی انسانیت کے لیے امید کی نئی کرن بنتی ہے، وہیں ایک بڑا سوال بھی سامنے لاتی ہے — کیا یہ تیز رفتار علاج ہمیشہ محفوظ بھی ہوتے ہیں؟


طبی تجربات کسی بھی نئی دوا یا علاج کو عوام تک پہنچانے سے پہلے کیے جاتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ علاج کتنا مؤثر اور محفوظ ہے۔ دنیا بھر میں Clinical Trials کے مختلف مراحل ہوتے ہیں، جن میں دوا پہلے محدود افراد پر آزمائی جاتی ہے اور پھر وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے منظور کی جاتی ہے۔ مگر اس پورے عمل میں ذمہ داری، شفافیت اور احتیاط نہایت ضروری ہے۔ اگر تجربات جلد بازی میں کیے جائیں یا درست نگرانی کے بغیر کیے جائیں تو یہ فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔


پاکستان سمیت مختلف ترقی پذیر ممالک میں اکثر لوگ بنا تحقیق کے نئی ادویات آزماتے ہیں، خود علاج کرتے ہیں یا غیر مصدقہ میڈیکل مشوروں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف خطرناک ہے بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی تجربات کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے، نہ کہ جلد بازی میں نام کمانا یا کاروباری فائدہ حاصل کرنا۔ عوام کو بھی چاہیے کہ کسی بھی نئی دوا یا علاج کو استعمال کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔


طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر تحقیق کے اصولوں پر صحیح عمل کیا جائے تو نئے علاج یقیناً فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن اگر احتیاط نظر انداز ہو جائے تو یہ انسانی زندگی کے ساتھ خطرناک کھیل کے مترادف ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ حکومتیں، میڈیکل ادارے اور ڈاکٹرز باہمی تعاون سے ایک ایسا نظام قائم کریں جس میں ہر تجربہ شفاف، محفوظ اور تحقیق کے عالمی معیار کے مطابق ہو۔


آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میڈیکل سائنس کی ترقی یقینی طور پر انسانیت کے لیے رحمت ہے، مگر صرف اسی صورت میں جب اس کے ساتھ ذمہ داری اور احتیاط بھی شامل ہو۔ علاج تیز ضرور ہونا چاہیے، لیکن حفاظت اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

Read more Eng https://pakipolitics.com/eng-48/