آئی ایم ایف پالیسیاں اور گھریلو بقا کی مصنوعات معاشی دباؤ میں اسمارٹ زندگی
آئی ایم ایف کی پالیسیاں ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لیے ہوتی ہیں، لیکن گھریلو سطح پر ان کے اثرات مہنگائی، بجلی و گیس کے بلوں میں اضافہ اور خریداری کی طاقت میں کمی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ایسے حالات میں گھریلو بقا کی مصنوعات ہر خاندان کی ضرورت بن چکی ہیں۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایل ای ڈی بلب، انورٹر پنکھے اور سولر لائٹس جیسے بجلی بچانے والے آلات بے حد مفید ثابت ہو رہے ہیں۔ کچن میں پریشر ککر، کم گیس استعمال کرنے والے چولہے اور ایئر فرائر بجٹ کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
خوراک کی بڑھتی قیمتوں نے ایئر ٹائٹ ڈبوں، فریزر بیگز اور فوڈ آرگنائزرز کی اہمیت بڑھا دی ہے، جس سے کھانا ضائع ہونے سے بچتا ہے۔ اسی طرح واٹر فلٹر گھریلو اخراجات کم کرنے کے ساتھ صحت کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف پالیسیوں کے دباؤ نے گھریلو کمائی کے ذرائع کو بھی فروغ دیا ہے، جیسے سلائی مشین، بیکنگ کے بنیادی آلات اور آن لائن کام کے لیے ضروری ایکسسریز۔
آج کے دور میں بقا کا مطلب عیش نہیں بلکہ سمارٹ فیصلے ہیں، اور درست گھریلو مصنوعات خاندان کو معاشی دباؤ میں بھی متوازن زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔
Read More Eng https://pakipolitics.com/eng-43/

