پاکستان اور عالمی سیاست: ایک بدلتا ہوا منظرنامہ
عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے بعد جو عالمی نظام قائم ہوا تھا، وہ اب نئے اتحادوں، علاقائی بلاکس اور معاشی مفادات کی وجہ سے ایک نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔ پاکستان، جو جغرافیائی اور نظریاتی لحاظ سے ایک اہم ملک ہے، اس بدلتی عالمی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان کی داخلی سیاست کا عالمی تعلقات پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ سیاسی استحکام نہ صرف معیشت کو مضبوط بناتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے خارجہ پالیسی میں توازن کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس کا مقصد کسی ایک عالمی طاقت پر انحصار کم کرنا اور کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
چین پاکستان کا قریبی اتحادی ہے اور اقتصادی و اسٹریٹجک تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سی پیک جیسے منصوبے نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ خطے کی سیاست پر بھی گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔
دوسری جانب، امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ، یوکرین، اور ایشیا پیسیفک خطہ عالمی سیاست کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔ ان تنازعات کا اثر براہِ راست ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے، خصوصاً توانائی، تجارت اور سلامتی کے شعبوں میں۔ پاکستان کو ان عالمی چیلنجز کے درمیان اپنی خارجہ پالیسی کو دانشمندانہ انداز میں آگے بڑھانا ہوگا۔عالمی سیاست میں اب فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ معاشی اور سفارتی طاقت کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔
ڈیجیٹل سفارت کاری، میڈیا، اور عوامی رائے عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی بیانیے میں اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرے۔آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور عالمی سیاست کا مستقبل باہمی تعاون، سیاسی بصیرت اور داخلی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ اگر پاکستان اپنی پالیسیوں میں تسلسل اور توازن برقرار رکھتا ہے تو وہ عالمی سیاست میں ایک مضبوط اور باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔
Read More Eng https://pakipolitics.com/eng-35/

