رمضان 2026 میں سحری و افطاری مہنگی کیوں؟ حکومت کے دعوے بے نقاب!
Ramadan 2026 Inflation in Pakistan: Govt Claims vs Ground Reality
سحری و افطاری میں مہنگائی 2026 — رمضان بازار اور پرائس کنٹرول کی حقیقت
مہنگائی کا رمضان 2026: پھل، چینی، آٹا اور چکن کی قیمتوں میں طوفانی اضافہ
🧵 Introduction — تعارف
رمضان المبارک 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان بھر میں سحری و افطاری میں ضروری اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ نے عوام کا صبر آزما کردیا ہے۔ حکومت کے دعووں کے باوجود مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں — خاص طور پر پھل، چینی، آٹا اور چکن جیسی بنیادی چیزیں۔
یہ بلاگ حکومتی دعووں اور عوامی زمینی حقیقت کے درمیان فرق کو سامنے لاتے ہوئے پیش کرتا ہے۔
📈 1. مہنگائی کا طوفان — زمینی حقیقت
بجٹ پر زور دینے والے عوام کو رمضان کے پہلے ہی دن ہی مہنگائی کے شدید جھٹکے محسوس ہوئے۔ ملک بھر میں قیمتوں میں ایک بار پھر بے قابو اضافہ دیکھنے میں آیا ہے:
کئی پھلوں کی قیمتیں 600-700 روپے فی کلو تک پہنچ گئیں۔ جیسے کیلا، سیب، امرود و دیگر پھلوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ �
UrduPoint
چکن کی قیمت میں بھی اضافہ اور دیگر اشیائے خورد و نوش مہنگی ہو گئیں۔ �
UrduPoint
پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں پھل و سبزیوں کی قیمتیں عام شہری کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ �
Mashriq TV +1
ہفتہ وار مہنگائی میں 1.16% اضافہ اور سالانہ شرح 5.19% تک جا پہنچی۔ �
Dunya News
💡 Price hikes are not limited to one city — this is a nationwide trend, making Ramadan purchases harder with rising expenses on essential staples.
📊 2. پھل، چینی، آٹا، چکن — قیمتوں کا حساب
🍌 پھل
کیلا، سیب، مالٹا، انار میں بڑی لہرِ اضافہ۔
مثال کے طور پر، کیلے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے روزمرہ خریداری مشکل ہو گئی ہے۔ �
Mashriq TV
🍚 چینی اور آٹا
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آٹے اور چینی کی قیمتوں میں کچھ کمی درج کی گئی، مگر ان میں کمی بہت محدود ہے اور عوام کی بجٹ پر اثر نہ ہونے کے برابر۔ �
Javed Chaudhry Columns
پنجاب سمیت دیگر شہروں میں گندم کی فی من قیمت میں بڑی لہر آئی ہے، جس سے آٹے کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ �
Hamariweb.com
🍗 چکن
چکن 6% کے قریب مہنگا ہوا، جبکہ سبزیوں اور پھلوں کے مقابلے بھی اس میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ �
Javed Chaudhry Columns
پنجاب میں حکومت اور پولٹری ایسوسی ایشن کی ہدایت پر سستا چکن و انڈے سبسڈی کے تحت کچھ رمضان بازاروں میں فراہم کیے جا رہے ہیں — مگر یہ عوامی مطالبات اور مکمل بازار سطح تک معیشت پر اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ �
ProPakistani
🛍️ 3. رمضان بازار (Ramadan Bazaars) — امید یا مایوسی؟
✔️ سرکاری دعوے
وفاقی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے سستا رمضان بازارز قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں اشیاء کو مقررہ نرخوں پر دستیاب کیا جائے گا۔ �
Associated Press of Pakistan
اسلام آباد میں Cashless Ramadan Markets بھی قائم کیے گئے تاکہ ادائیگی آسان بنائی جائے اور قیمتوں کا کنٹرول ہو۔ �
The Express Tribune
پنجاب میں سہولت بازار میں سستے داموں خوراک، پھل اور سبزیاں فراہم کرنے اور 24/7 مانیٹرنگ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ �
Daily Pakistan
❌ زمینی حقیقت اور عوامی شکایات
کئی شہروں جیسے کوئٹہ میں سستا بازار صرف ایک مقام پر موجود ہے اور مارکیٹ میں مقررہ نرخ نامے کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ �
Dunya News
عوامی شکایات میں منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور بڑے واسطہ فروشوں کے خلاف انتظامیہ کی ناکافی کاروائی بھی شامل ہے۔ �
Business Recorder
سستا بازار سہولت دینے کے دعووں کے باوجود مارکیٹ میں اصل نرخوں پر اشیاء مہنگی ہی فروخت ہو رہی ہیں، جس سے عوام کو واقعی سکون نہیں ملا۔
⚖️ 4. Price Control Committees — کردار کیا رہا؟
حکومت نے متعدد Price Control Committees بھی بنائی ہیں جن کا مقصد نرخوں کا باقاعدہ کنٹرول اور منافع خوروں کی نگرانی کرنا ہے۔
ان کمیٹیوں کے تحت:
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ �
Daily Pakistan
مقررہ نرخوں سے تجاوز کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ �
Associated Press of Pakistan
📉 لیکن حقیقت یہ ہے کہ کنٹرول کمیٹیوں کا کردار بہت حد تک کاغذی ثابت ہوا ہے۔
ذخیرہ اندوزوں اور بڑے مافیا تک پہنچنا انتظامی ٹیموں کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔
چھوٹے دکانداروں پر تو ایکشن ہوتا ہے، مگر بڑے سوداگر بلااشتعال قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ �
Business Recorder
📌 5. سرکاری دعوے vs عوامی غیر اطمینان
🔹 حکومتی دعوے
اشیاء کو مقررہ قیمتوں پر فراہم کرنا۔
سستا بازار، سہولت بازار اور مانیٹرنگ سسٹم کا قیام۔
قیمتوں میں استحکام اور عوامی ریلیف یقینی بنانا۔
🔸 عوام کی رائے
مارکیٹ میں قیمتیں بے قابو بڑھ رہی ہیں۔
سستا بازار اکثر مظاہروں، لائنوں اور محدود سپلائی تک محدود ہیں۔
منافع خور اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کاروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
🧠 Conclusion — خلاصہ
رمضان 2026 میں مہنگائی کا بوجھ حکومت کے دعووں کے مقابلے میں حقیقتاً سنگین رہا ہے۔
حکومت نے جہاں سستا بازار، مانیٹرنگ اور Price Control Committees کے ذریعہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے دعوے کیے، وہیں زمینی حقیقت کچھ اور ہی بتاتی ہے:
📌 پھل، چینی، آٹا، چکن اور سبزیاں مہنگی ہو رہی ہیں،
📌 سستا بازار ہر جگہ مؤثر ثابت نہیں ہوا،
📌 منافع خور اور گھپلے بازیں عوام کے لیے اصل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
رمضان کا مقصد روحانیت، صبر اور بھائی چارہ ہے، مگر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے عوام کو مالی دباو میں ڈال دیا ہے جس کا حل صرف دعووں سے نہیں بلکہ شفاف عمل درآمد اور سخت نگرانی سے ہی ممکن ہے۔

