سحری و افطاری میں مہنگائی کا طوفان رمضان میں عوام کی آزمائش

Sehri & Iftar Inflation Crisis in Pakistan 2026
رمضان المبارک برکتوں، صبر اور ایثار کا مہینہ ہے، لیکن پاکستان میں ہر سال اس مقدس مہینے کے ساتھ ایک اور لفظ جڑ جاتا ہے مہنگائی۔
2026 میں بھی صورتحال مختلف نظر نہیں آتی۔ سحری اور افطاری کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
سحری و افطاری کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ
مارکیٹ سروے کے مطابق آٹا، چینی، دالیں، چکن، سبزیاں اور پھل — سب کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ٹماٹر، پیاز اور لیموں کی قیمتوں میں 20 سے 40 فیصد تک اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
افطاری کے لازمی جزو جیسے پکوڑے، سموسے اور فروٹ چاٹ بھی اب عام گھرانوں کے لیے مہنگے پڑ رہے ہیں۔ چکن اور بیسن کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔


Why Sehri & Iftar Are Becoming Expensive in Pakistan?
Several factors are contributing to inflation during Ramadan in Pakistan:
Supply chain disruptions
Hoarding and black marketing
Increase in fuel prices
Weak regulatory enforcement
Currency depreciation
Every year, demand increases during Ramadan, but unfortunately, market control mechanisms often fail to protect consumers.


حکومت کے دعوے اور زمینی حقیقت
حکومت کی جانب سے ہر سال رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ماضی میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے سبسڈی دی جاتی رہی ہے، اور موجودہ حکومت بھی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کا دعویٰ کرتی ہے۔
تاہم عوامی شکایات کے مطابق ریلیف کا فائدہ محدود طبقے تک پہنچتا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا صرف اعلانات کافی ہیں؟ یا مؤثر مانیٹرنگ سسٹم کی ضرورت ہے؟


Impact on Middle & Lower Class Families
For daily wage earners and salaried individuals, Ramadan becomes financially stressful.
Budget imbalance
Reduced nutritional intake
Increased debt or borrowing
Psychological stress
Many families are forced to cut down on fruits, meat, and quality food items during Sehri and Iftar.


مہنگائی کے سماجی اثرات
مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اثرات بھی رکھتی ہے:
غربت میں اضافہ
خیرات اور زکوٰۃ کی طلب میں اضافہ
طبقاتی فرق میں وسعت
عوامی بے چینی
رمضان جیسے مقدس مہینے میں اگر غریب کو دو وقت کی روٹی مشکل ہو جائے تو یہ اجتماعی ناکامی سمجھی جاتی ہے۔


Possible Solutions – What Can Be Done?

  1. Strict Market Monitoring
    Price control magistrates should actively monitor markets.
  2. Transparent Subsidy Programs
    Subsidy should directly reach deserving families through digital verification systems.
  3. Community Support Programs
    Mosques and NGOs can organize collective Iftar programs.
  4. Public Awareness
    Consumers should avoid panic buying and report overpricing.
    عوام کیا کر سکتے ہیں؟
    غیر ضروری خریداری سے گریز
    مقامی سطح پر اجتماعی افطار پروگرام
    سادہ طرزِ زندگی اپنانا
    منافع خوروں کی نشاندہی
    رمضان کا اصل پیغام سادگی اور صبر ہے، نہ کہ دکھاوا اور اسراف۔

  5. Conclusion
    Sehri and Iftar inflation in Pakistan is not just an economic issue; it is a social and moral challenge.
    If authorities ensure proper regulation and society promotes simplicity and unity, the burden of inflation can be reduced. رمضان ہمیں صبر، ہمدردی اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے — یہی وقت ہے کہ ہم ان اقدار کو عملی شکل دیں۔