ICC کا کردار: کیا عالمی کرکٹ واقعی غیرجانبدار ہے؟
The Role of ICC: Is World Cricket Truly Neutral?
کرکٹ کو دنیا کا دوسرا مقبول ترین کھیل سمجھا جاتا ہے۔ ایشیا، آسٹریلیا، انگلینڈ اور افریقہ میں کروڑوں لوگ اسے صرف کھیل نہیں بلکہ جذبات کی علامت سمجھتے ہیں۔ عالمی سطح پر کرکٹ کے معاملات کو چلانے والی سب سے بڑی تنظیم International Cricket Council ہے، جسے ہم مختصراً ICC کہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ICC واقعی عالمی کرکٹ میں غیرجانبدار کردار ادا کر رہی ہے؟ یا بڑے کرکٹ بورڈز کا اثر و رسوخ اس کے فیصلوں پر غالب ہے؟
ICC کیا ہے اور اس کا بنیادی کردار کیا ہے؟
International Cricket Council کا قیام 1909 میں عمل میں آیا تھا۔ اس کا مقصد کرکٹ کے قوانین کو یکساں بنانا، عالمی ٹورنامنٹس کا انعقاد کرنا، اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ ICC ہی Cricket World Cup, ICC T20 World Cup اور دیگر بڑے ایونٹس کا انعقاد کرتی ہے۔
بظاہر ICC کا ڈھانچہ جمہوری ہے جہاں تمام رکن ممالک کو نمائندگی حاصل ہے، لیکن حقیقت میں مالی طاقت رکھنے والے بورڈز کا اثر زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
کیا بڑے بورڈز کا اثر و رسوخ زیادہ ہے؟
دنیا میں تین بڑے کرکٹ بورڈز — Board of Control for Cricket in India (BCCI)، England and Wales Cricket Board (ECB)، اور Cricket Australia — مالی طور پر سب سے مضبوط سمجھے جاتے ہیں۔
خاص طور پر BCCI دنیا کا امیر ترین کرکٹ بورڈ ہے۔ بھارت کی بڑی مارکیٹ، اسپانسرشپ، اور میڈیا رائٹس کی وجہ سے ICC کی آمدنی کا بڑا حصہ بھارتی مارکیٹ سے آتا ہے۔ اس لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ ICC کے کئی فیصلوں میں بھارت کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر ٹورنامنٹس کے شیڈول، میزبان ممالک کے انتخاب، اور ریونیو شیئرنگ ماڈل میں بڑے بورڈز کو زیادہ فائدہ پہنچنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
چھوٹے ممالک کے خدشات
افغانستان، زمبابوے، آئرلینڈ اور دیگر ابھرتے ہوئے کرکٹ ممالک اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں بڑے ایونٹس میں برابر مواقع نہیں ملتے۔ اگرچہ ICC نے حالیہ برسوں میں ٹیموں کی تعداد بڑھائی ہے، لیکن مالی وسائل کی تقسیم اب بھی ایک حساس مسئلہ ہے۔
مثال کے طور پر ریونیو ڈسٹری بیوشن ماڈل میں بھارت کو سب سے زیادہ حصہ ملنے کی خبریں میڈیا میں زیر بحث رہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر عالمی کھیل کو فروغ دینا مقصود ہے تو وسائل کی تقسیم زیادہ متوازن ہونی چاہیے۔
سیاست اور کرکٹ کا تعلق
کرکٹ صرف کھیل نہیں بلکہ کئی بار سیاسی حالات کا بھی عکس بنتی ہے۔ پاک بھارت مقابلے اس کی واضح مثال ہیں۔ جب بھی Pakistan اور India کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو کرکٹ سیریز متاثر ہوتی ہے۔
حال ہی میں ایشیا کپ اور ورلڈ کپ کی میزبانی کے معاملات پر بھی تنازعات دیکھنے میں آئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ICC ایسے معاملات میں مکمل غیرجانبداری اختیار کرتی ہے یا سیاسی دباؤ فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے؟
کیا ICC واقعی غیرجانبدار ہے؟
اگر قانونی اور رسمی ڈھانچے کو دیکھا جائے تو ICC ایک غیرجانبدار عالمی ادارہ ہے۔ اس کے آئین اور ضوابط تمام رکن ممالک پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔ اینٹی کرپشن یونٹ، امپائرنگ سسٹم، اور ٹیکنالوجی جیسے DRS کے نفاذ سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔
لیکن عملی طور پر مالی طاقت رکھنے والے ممالک کا اثر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی کھیل میں سرمایہ کاری اور ناظرین کی تعداد اہم عوامل ہوتے ہیں، اور یہی چیز طاقت کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
اگر ICC کو واقعی غیرجانبدار عالمی ادارہ بننا ہے تو چند اقدامات ضروری ہیں:
ریونیو کی منصفانہ تقسیم
چھوٹے ممالک کے لیے زیادہ مواقع
سیاسی دباؤ سے آزاد فیصلے
ٹورنامنٹس کی شفاف میزبانی
عالمی کرکٹ کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تمام ممالک کو برابری کا احساس ہو۔
نتیجہ
International Cricket Council بلاشبہ عالمی کرکٹ کا سب سے بڑا ادارہ ہے، اور اس نے کھیل کو جدید دور میں داخل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم غیرجانبداری کا سوال مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ مالی طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ ایسے عوامل ہیں جو عالمی کھیل کی سمت متعین کرتے ہیں۔
عالمی کرکٹ کے شائقین یہی امید رکھتے ہیں کہ ICC مستقبل میں مزید شفاف اور متوازن فیصلے کرے گی تاکہ کرکٹ واقعی ایک عالمی اور منصفانہ کھیل بن سکے۔

